Saturday, 7 January 2017

nijwan nasal k manfi rujhanat




یہ جنوری 5 ,2017 نوائے وقت اخبار کی خبر ہے



نوجوان نسل میں بڑھتے منفی رحجانات اور ان کا حل


خالی یہ ایک خبر نہیں یہ ہمارے تعلیمی اداروں کی خوفناک صورتحال ہے۔آئے دن اخبارات میں ایسی خبریں چھپتی رہتی ہیں کسی دن یونیورسٹی کی طالبہ کی شادی سے انکار پر خودکشی کی خبر تو کسی دن سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات کی منشیات میں مبتلا ہونے کی رپورٹ تو کبھی فحاشی و عریانی کے پھیل جانے سے زنا و ہم جنس پرستی جیسے واقعات کی دل ہلا دینے والی خبریں ہوتی ہیں۔المیہ تو یہ ہے کہ یہ چیزیں اتنی عام ہو گئی ہیں کہ اخبارات روزانہ کی بنیادوں پر ایسی  خبریں اور رپورٹیں دینا شروع ہوگئے ہیں
 ہمارا معاشرہ اس وقت بڑی تہذیبی و ثقافتی انقلاب سے گزر رہا ہے اس وقت اس کا رخ مغربی تہذیب کی طرف ہے  اور ہم سر پٹ  اس کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ۔کل تک جوگفتگو، رویہ،لبا س اور جو انداز حرام سمجھے جاتے تھے اب وہ ہماری تہذیب کا حصہ بن چکے ہیں۔کل تک جو حرکت یا عادات دیکھ کر والدین کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی تھیں اور وہ معاشرے میں ان کی وجہ سے بے عزتی  محسوس کرتے تھے اب ان حرکات اور طریقوں کو عام ہوجانے پر قبول کیا گیا  اور بعض اوقات  فخر سے اپنے بچوں کی ان حرکات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔سوشل میڈیا نے تمام حدیں توڑ ڈالیں ہیں۔

دور حاضر  میں نوجوان نسل اپنے آپ کو ماں باپ اور بزرگوں سے الگ تھلگ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ان کا تعلق ماں باپ سے صرف مالی فائدہ اٹھانے کی حد تک ہے وہ چاپلوسی سے یا پھر زبردستی وصول کرلیتے ہیں اور فضول یا حرام کاموں پر اڑا دیتے ہیں۔ مگر افسوس ہمیں یہ سب تشویش میں مبتلا نہیں کرتی کیونکہ ہم اس بات سے تسلی میں آجاتے ہیں کہ سارے ہی تو یہ کر رہے ہیں
ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ہمارے بچے ان برائیوں کی لپیٹ میں آئیں مگر ان برائیوں سے بچانے کے لئے ہم نے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے یا اگر کئے بھی تو وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔افسوس کے ساتھ  اس نوبت تک پہنچانے والے سارے اسباب موجود ہیں جن میں سے بیشتر ہم نے خود فراہم کئے ہیں اور وہ سب ہمیں تشویش میں مبتلا نہیں کرتے چاہے وہ کسی بھی سطح پر ہو راتون کو دیر تک رکنا ہو،ریسٹورنٹ کلچر ،نیم عریاں اور غیر ساتر لباس میں نکلنا،ڈھیروں ڈھیر پاکٹ منی،موبائل فون اور دوسرے ڈیوائسز کا بلا روک ٹوک استعمال۔۔۔
وغیرہ جہاں پر برائی کو کرنے اور اس تک رسائی ایک بٹن دبانے سے حاصل ہو جاتی ہے ۔مگر یہ سب چیزیں فکر ہمیں مبتلا نہیں کرتیں۔

۔ہم نے سمجھا کہ محض ناظرہ قرآن  پڑھا کرمہنگے سکولوں میں داخل کروانے سے بہترین تعلیم و تربیت حاصل ہو گی اس لئے والدین نے اپنی اس ذمہ داری کو سکول کے کھاتہ میں ڈال کر تعلیم و تربیت اور باقی فرائض سے چھٹی کر لی اور یہ سمجھا کہ بڑا ہوگیا تو ذمہ داری ختم حالانکہ جیسے جیسے عمر میں بڑے ہوتے ہیں والدین کی ذمہ داریاں  بھی بڑھتی جاتی ہیں اور ان کی فکروں میں بھی اضافہ ہونا چاہیئے مگر ہم نے زندگی میں سکون اور خوشیوں کے لئے مال و دولت کو واحد سبب سمجھ کر اس کے حصول میں ہی تمام تر وقت اور صلاحیتیں لگا دی گئیں،۔زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کے چکر میں حلال کے ساتھ ساتھ حرام کی آمیزش میں بھی مضائقہ نہیں سمجھا گیا۔ ۔
ہم نے معلومات اور ایجادات کا ذخیرہ تو جمع کر لیا مگر مذہب کی را ہنمائی اور اس کی تربیت سے محروم ہو کر ضمیر،اخلاقی احساس اور ضبط نفس کی دولت سے محروم ہو گئے
مذہبی راہنمائی کے بغیر یہ ساری تعلیم بیکار نہیں بلکہ وبال جان ثابت ہو رہی ہے ہمیں دوہرا نقصان یہ ہوا کہ  انسان اخلاقی حیثیت سے گر گیا اور دوسرا یہ کہ وسائل یا تو حقیر مقاصد میں ضائع ہو رہے ہیں  

انسان کی ہی بربادی کا ذریعہ بن رہے ہیں  یا

جب یہ مرض کسی قوم کو لگ جاتا  ہےتو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کہ قتل و غارت اور باقی جرائم کی شرح بڑھ جاتی ہے ۔اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے دوسرے کا نقصان کیا جاتا ہے  ۔

اللہ کا قانون ہے کہ جو چیز جہاں کھوئی ہے وہیں ملے گی۔ہمیں معلوم ہو جانا چاہئے کہ ہمارا مرض  ہمارے اندر ہے اور ہمارا علاج بھی ہمارے اندر ہے۔جس چیز کو ہم باہر تلاش کرتے پھرتے ہیں وہ ہمارے اندر ہے۔یہ وہی قصہ ہے کہ کسی کی کوئی چیز گم ہوگئی تھی گھر کے اندر اور وہ باہر اس کو تلاش کر رہا تھا،کسی نے کہا وہ چیز گری کہاں تھی ؟اس نے کہا گھر کے اندر۔تو کہا کہ اندر کیوں نہیں تلاش کرتے؟کہنے لگا ،گھر کے اندر روشنی نہیں۔روشنی باہر ہے اس لئے جہاں روشنی ہے میں وہاں تلاش کر رہا ہوں۔ٓاج ہم بھی یہی کر رہے ہیں کہ اپنے مسائل کا حل وہاں تلاش کر رہے ہیں اور وہاں سے خیر اور کامیابی و سکون کی توقع کر رہے ہیں جہاں موجود ہی نہیں اور نہ ہی وہ سبب ہے خیر وسکون کا۔

۱: اب کوئی تیسرا علاج نہیں علاج صرف یہی ہے کہ  رسول اللہ کا دامن پکڑا جائے اور دنیا کی کتابوں کو جس دلچسپی ،محنت اور لگن سے پڑھا اور رٹا جاتا ہے اس سے بڑھ کر کتاب اللہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں اپنی توانائیوں کو لگایا جائےْ۔ایک بیمار انسان جس احتیاط  اور مکمل توجہ کے ساتھ ڈاکٹر کی دی ہوئی ہدایات پر عمل کرتا ہے کیونکہ  اس حوالے سے ذرا سی غفلت اور لا پرواہی اس کو نقصان سے دوچار کر سکتی ہے اس سے بڑھ کر ہمیں اس قرآن کو تھامنے کی ضرورت ہے۔

۲:سب سے پہلے ہمیں خود کو قرآن سے جوڑنا ہے ۔حلال اور حرام کی فکر کرنی ہے جس گھر میں نماز روزہ حج سے آگے بڑھ کر دین پر عمل ہو اور ہر معاملے میں بچے اپنے والدین کو معاملہ کرتے ہوئے حلال حرام کے حوالے سے فکر مند نظر آئیں گے وہاں پر یہ شعورلازمی طور پر اولاد میں منتقل ہو گا۔کونکہ ہم میں سے ہر کوئی یہ خواہش رکھتا ہے کہ اولاد نیک  اور فرمانبدار ہو  لیکن صرف خواہش سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے خود بھی نیک اور صالح بننا پڑتا ہے۔ جس کی اچند ایک مثالیں مندرجہ ذیل ہیں ـ
عبداللہ بن مسعودؓ جب رات میں نوافل ادا کر رہے ہوتے تو سامنے اپنے چھوٹے بچے کو سویا ہوا دیکھ کر کہاکرتے تھے "من اجلک یا بنی،، یہ تیرے روشن مستبقل کے لئے ہے اور روتے ہوئے ( وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا ) کی تلاوت کرتے۔

  سعيد بن مسيّب رحمہ اللہ  كا بهي يہي حال تها، فرماتے :
اني لأصلي فأذكر ولدي فأزيد في صلاتي.
نماز پڑھتے ہوئے جب مجھے اپنے بچے یاد آتے ہیں تو نماز لمبی کر دیتا ہوں۔
سورہ کہف کے میں مذکور  واقعے سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ باپ اگر نیک ہو تو اس کا فائدہ اس کی اولاد کو بھی ہوتا ہے۔

۳:اپنی اولاد کے دل میں اللہ کا خوف، اس کی مکمل معرفت و پہچان اور آخرت میں جوابدہی کا خوف  یقین کی حد تک بٹھایا جائے کیونکہ کسی چیز کا محض علم ہونے اور اس پر یقین ہونے میں بہت فرق ہے یقین وہ دولت ہے جو کسی بھی چیز پر ہو تو اس کے مطابق انسان کو عمل پر آمادہ کرتی ہے۔ کی عمل پر آمادہ کرنے کے لئے محض سطحی علم ناکافی ہے اور  دور حاضر میں جس کثرت سے فتنے موجود ہیں یہی وہ واحد چیز ہے جو انسان کو حرام کاموں میں مبتلا ہونے سے روک سکتی ہے اس لئے اللہ اور آخرت پر ایمان اور آخرت کے جزا و سزا پر ایمان یقین کی حد تک ضروری ہے۔

۴:اگر بچوں کو برائی اور بے حیائی سے بچانا ہے تو شریعت کی دی ہوئی ترتیب کو ملحوظ  رکھا جائے جس میں  بالغ ہونے سے پہلے محض چند ایک چیزوں کی تاکید کی ہے اگر ان کا ہی مکمل اہتمام کیا جائے تو بہت سے برائیوں کا سدباب ممکن ہے
جن میں سے تاکیدا  ایک بستر الگ کرنا اور دوسرا نماز کی عادت ڈالنے کا حکم ہے۔نماز ایک ایسی چیز ہے جس ایک عمل کی بدولت انسان کی بہترین تربیت ہوسکتی ہے۔نماز پڑھنے کی عادت ہوگی تو بچے کو طہارت اور وضو وغیرہ کے بارے میں بنیادی تصور واضح ہوگا۔نماز پڑھنے کا عادی بنائیں گے تو کچھ نہ کچھ قرآن بھی اس کے لئے سیکھنا اور یاد کرنا پڑے گا۔نماز کے چند بنیادی مسائل کو بھی جاننا پڑے گا۔ نماز ہی کے بارے میں قرآن میں آتا ہے
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ
اور نماز قائم کرو بیشک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے
یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ خود آگاہ کر رہے ہیں کہ نماز کی پانبدی کرو کیونکہ یہ بہت سی بری باتوں اور برائیوں سے لاشعوری طور پر روک دیتی ہے۔
بستر الگ کرنے سے بچے کے اندر حیا کے پہلوؤں اور تصورات کو باآسانی واضح کیا جا سکتا ہے ۔

۵:زندگی اور موت کا تصور ان کے ذہنوں میں واضح کیا جائے۔زندگی کے مقصد کو واضح کیا جائے کہ ہم اس دنیا میں کیا کرنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں نوجوان نسل کے ذہن میں زندگی کے متعلق ایک ہی تصور دیا گیا ہے اور وہ ہے تفریح کا حصول آج کا نوجوان ہر چیز میں انٹرٹنیمنٹ کے پہلو کو تلاش کرتا ہے گویا زندگی کا واحد مقصد ہی یہے ہے کہ کھاؤ پیو موج اڑاؤ،چار دن کی زندگی ہے جیسے چاہو جیو(اس قسم کے اور بہت سے سلوگنز عام کئے گئے ہیں)۔ اس کے ثبوت میں یہ اخباری رپورٹ ہی کافی ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں طلبا کا منشیات استعمال کرنا  اس لئے نہیں کہ خدانخواستہ زندگی میں کوئی بہت سے غم لاحق ہو گئے ہیں جن کو دور کرنے کے لئے منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے بلکہ یہ محض تفریح کے طور پر اور دیکھا دیکھی اندھا دھند مغرب کی تقلید میں ہو رہا ہے ۔اور منشیات کا استعمال ساتھ میں اور کون کون سی برائیاں لاتا ہے اور کیسے حیا کے دامن تار تار ہوتے ہیں اس سے سب خوب واقف ہیں ۔ 
۔ 
۶:حلال اور حرام کی مکمل پہچان بلوغت سے پہلے ضروری ہے کیونکہ بالغ ہوتے ہی وہ شریعت کے مکلف ہوجاتے ہیں۔بالغ ہونے سے پہلے ہی مکمل قرآن کا ترجمہ فہم کے ساتھ ان کو سکھایا جائے مگر افسوس ہمارے ہاں اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی اس کے برعکس سکول کے ایک سال کی سلیبس کی موٹی موٹی ڈھیروں کتابیں رٹا دی جاتی ہیں اگر نہیں توجہ اور وقت تو صرف اس کتاب کے لئے حالانکہ یہ وہ کتاب ہے جو عام فہم اور ہو وقت قابل عمل ہے۔جو ایک غریب،ایک دولت مند،ایک کمزور،ایک طاقتور،ایک تاجر،ایک حاکم کو،ایک بھائی ،ایک بیٹے اور ایک  شوہر کو  مکمل راہنمائی دے سکتی ہے اور برائیوں سے بچا کر راہ راست پر لا سکتی ہے۔
۷:ماؤں کی اگر واحد فکر یہ ہو کہ میں نے اپنے بچوں کو حرام سے بچانا ہے اور دن بھر کی غالب سوچ ہی یہی ہو کہ ان کی آخرت کو کیسے بچانا ہے تو اللہ مدد کرتا ہے اور خود ہی راستے نکال دیتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس کے لئے سچی تڑپ اور لگن ہونی چاہیئے۔اس کے لئے ڈھیروں محنت اور قربانیاں (اپنے دنیوی شوق،وقت اور آرام کی) قربانیاں دینا ہو گی
اس کی مثال میں امام احمد رحمہ اللہ کا واقعہ نقل کروں گی
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال کا تھا میری والدہ نے مجھے قرآن حفظ کروایا۔مجھے فجر سے پہلے بیدار کرتی اور سردی کی وجہ سے میرے وضو وغیرہ کے لئے پانی گرم کرتی  پھر اللہ ہمیں جتنی توفیق دیتا ہم نماز(تہجد) ادا کرتے۔پھر ہم دونوں مسجد جاتے تاکہ  فجر کی نماز ادا کریں پھر جب میں سولہ سال کا ہوا میری والدہ نے مجھے کہا:
یا بنی سافر لطلب الحدیث ؛فان طلبہ ھجرۃ فی سبیل اللہ
اے میرے پیارے بیٹے حدیث کا علم سیکھنے کے لئے سفر کرو(نکلو) کیونکہ اس کا سیکھنا اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت کا ہر بچہ امام اور محدث ہوتا تھا؟؟؟نہیں ۔بگاڑ اور فتنے اس وقت بھی موجود تھے۔مگر ان کی ماں کی انتھک محنت اور قربانی کا کیا زبردست نتیجہ نکلا کہ امام احمد وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں آتا ہے کہ ابوبکرؓ کے بعد اس امت پر سب سے بڑا احسان امام احمد کا ہے۔
کیا میں اور آپ اپنے بچوں کی آخرت بچانے کے لئے ایسی محنت کر رہے ہیں؟؟؟ کہ امام محدث نہ سہی مگر حلال حرام کی فکر رکھنے والا باعمل مسلمان بنانا ضروری ہے کیونکہ یہ وہ پرچے ہیں جو اللہ نے ہمارے ہاتھوں میں دیئے ہیں اور ہم سے ان کے متعلق قیامت کے دن سوال ہو گا۔۔اس لئے اس بارے میں سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔


۸:ہم ان کی دنیوی تعلیم کے لئے جن تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں وہاں کا ماحول اور بچے کی شخصیت اور اس کے ایمان پر اثرات کو ترجیح دینے کے بجائے اس کو پس پشت ڈال کر محض تعلیمی  معیار کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ہم دنیا کا ذرا بھی نقصان برداشت نہیں کرتے اور نہ ہی اس  دوڑ میں پیچھے رہنا گنوارہ ہے ۔اس کے بارے میں قرآن میں آتا ہے
۔
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ کھیل اور ایک دل لگی ہے اور بناؤ سنگھار ہے اور تمھارا آپس میں ایک دورے پر باہم فخر کرنا اور اموال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال بارش سے اگنے والی کھیتی کی طرح ہے جس نے کاشت کاروں کو خوش کر دیا ،پھر وہ پک جاتی ہے پھر تو اسے دیکھتا ہے کہ زرد ہے پھر وہ چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بڑی بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں(الحدید:20)

۹:بچوں کو دینی ماحول فراہم کیا جائے ،ان کی صحبت  کے بارے میں فکر مند ہوإ جائے کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں کیونکہ صحبت کا اثر لازمی طور پر آتا ہے چاہے کسی کا کتنا ہی مضبوط ایمان کیوں نہ ہو لازمی طور پر متاثر ہوتا ہے جیسا کہ حدیث رسول میں آتا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ یخالل
انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے پس تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے
آج سے کچھ سال پہلے یہ رواج نہیں تھا جو اب بہت عام ہو گیا ہے کہ چھوٹے بچے بھی اپنے دوستوں کے گھروں میں اکیلے پورا دن گزارتے ہیں اور والدین اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کن سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا اس صحبت سے وہ کیا کچھ سیکھ رہے ہیں۔برتھ ڈے پارٹی اور لنچ پارٹیز کے نام پر کیا کچھ ہو رہا ہے ۔بچے کے دوستوں کے والدین سے دوستی بڑھایئے اور لازمی اس بات کا علم رکھیں کہ آپ کے بچے کا دوست کس گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔

۱۰:ساتر اور با حیا لباس پہنایئے چاہے بالغ ہو یا نہ بالغ۔افسوس کے ساتھ آج جتنے واقعات جنسی زیادتی کے ہو رہے ہیں چاہے وہ چھوٹے بچوں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو اس کی بڑی وجہ بے حیائی اور عریانی ہے جو لباس بیس تیس پہلے پہننا ناممکن سمجھا جاتا تھا آج وہ عام ہے (چھوٹی بچیوں کو بھی مناسب لباس پہنایئے کیونکہ آج سے بیس سال پہلے نہ ہی بچیوں کا ایسے لباس پہنائے جاتے تھے اور نہ ہی زیادتی کے واقعات اس قدر عام تھے) کیونکہ  یہ ممکن نہیں  کہ جراثیم کو عام کردیا جائے اور پھر بیماری نہ پھیلے یہ تو ایسے ہی ہے گویا کہ مٹھائی اور آئسکریم باہر رکھ کر کہا جائے کہ مکھیاں نہ آئیں ۔ہر عمل کا ردعمل ضرور ہوتا ہے۔اور آج ہم ان سب کا سامنا کر رہے ہیں ۔

اللہ مجھے اور آپ کو ان فتنوں سے بچائے اور اپنی اولاد کی صحیح معنوں میں تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کو ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنائے(آمین)
سارہ اقبال

 ۔

Thursday, 29 December 2016

translation of book




کتاب کا ترجمہ اور میرے تاثرات

کتابیں پڑھنے کا شوق شروع سے تھا مگر دین سے حقیقی معنوں میں وابستگی کے بعد بہت سا دینی لٹریچر بھی پڑھا۔ان میں  چند کتابیں ایسی تھیں جنہوں نے مجھےبہت متاثر کیا،میری شخصیت سازی میں اہم کردار کیا، میری تربیت کی اور مجھے اندر سے بدل ڈالا۔ان بہتریں کتابوں میں سے ایک یہ ہے۔۔۔

 بنیادی طور پر یہ کتاب حصول علم کے آداب کے  بارے میں ہے۔

کتاب کا تعارف 
اس کتاب کا نام "حلیۃ طالب العلم " ہے۔حلیہ سے مراد زینت ہے اور مومن کے آداب واخلاق ہی اس کی زینت ہوتے ہیں۔
 مختصرا یہ کتاب ان تمام موضوعات پر بحث کرتی ہے جن کی ایک طالب علم کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جن سے آراستہ کرے۔ کتاب کی عربی آسان نہیں خاص طور پر اصل کتاب کا متن(شیخ بکر رحمہ اللہ نے جو لکھا ہے) سمجھنا مشکل کام ہے کیونکہ مؤلف کے لکھنے کا انداز اور الفاظ کا چناؤ اسلاف کی کتب جیسا ہے کہ جامع اور نایاب کلمات کے ذریعے سے اپنے مؤقف کو بیان کیا ہے مگر شیخ صالح عثیمین رحمہ اللہ نے اس کی آسان لفظوں میں تشریح کرکے اس کو عام قاری کے لئے قابل فہم بنا دیا ہے 
اس کی مثال ایسی ہے کہ حدیث یا فقہ کی کوئی کتاب ہوتو مدرس کا کمال ہے کہ وہ آپ کو کس  خوبصورتی سے بات کو سمجھاتا ہے اور اس کےتمام پہلوؤں کو واضح کرکے آسان اور قابل فہم بنا دیتا  ۔(شیخ صالح نے یہ کتاب اپنے طلبا کو قرآن و احادیث اور اسلاف کے ایمان افروز واقعات کی مدد سے بہت خوبصورتی سے پڑھائی ہے کہ پڑھنے والے کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور محض دو تین صفحات پڑھنے سے ہی بہت سے عملی نکات مل جاتے ہیں، ان کے آڈیو لیکچرز کو ہی کتاب کی شکل دی گئی ہے جو کہ انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے۔اصل کتاب کے متن کا ترجمہ انگریزی زبان میں موجود ہے  شرح کا ترجمہ ابھی تک کسی زبان میں بھی کتابی صورت میں موجود نہیں  مگر الحمدللہ اب اس کا ترجمہ اردو زبان میں مکمل کر لیا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ اس کی طباعت کا کام جلد مکمل ہو جائے۔

بہت سے دینی اداروں میں یہ کتاب پڑھائی جا رہی ہے ۔

 یہ کتاب اپنے موضوع کے لحاظ سے کئی حصوں میں منقسم ہے

پہلا حصہ:اس میں طالب علم کےشخصی و ذاتی آداب کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کو کن کن صفات سے مزین ہونا چاہیئے
دوسرا حصہ:علم حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیئے کس انداز اور کن درجوں میں حاصل کیا جائے( مثلا براہ راست استاد سے یا کتابوں سے اور ابتدا میں کون کون سی کتابیں پڑھنی چاہیئے)

تیسرا حصہ:طالب علم کو استاد کے ساتھ معاملہ کرنے کا طریقہ کار و آداب(مثلا اس کے مقام کو پہنچانا اگر وہ غلطی کر بیٹھے تو اصلاح کا طریقہ کار،اگر بدعتی یا عقیدہ درست نہیں تو کس طرح سے علم حاصل کرنا)
چوتھا حصہ:حصول علم کے دوران ساتھیوں سے کیسے معاملہ کرنا ہے اور ساتھیوں کا انتخاب کیسے کرنا ہے
پانچواں حصہ:طالب علم کی علمی زندگی کے دور میں اس کے اندر کیا کیا خاص خوبیاں ہونی چاہئیے مثلا سوال کرنے کا طریقہ کار،جھگڑا کئے بغیر مناظرہ کرنے کا طریقہ کار وغیرہ

چھٹا حصہ:حصول علم کے مرحلہ میں عملی پہلوؤں کے حوالے سے کچھ نصیحتیں

ساتواں حصہ:ان تمام نواقض اور بری خصلتوں کا بیان جن سے ایک طالب علم کو بچنا چاہئے۔

یہ دینی و دنیوی علوم  دونوں قسم کے ظلبا  کے لئے یکساں مفید ہے۔مگر  دین کے طالب علموں کو یہ  ضرور پڑھنی چاہیئے کیونکہ بنیادی طورپر لکھی ہی ان کی راہنمائی کے لئے گئی ہے اس کی خاص خوبی یہ ہے کہ شیخ صالح نے ہر موضوع پر مددگار کتابوں کے نام بھی بتائے ہیں اور اس میں محض طالبعلم کو راہنمائی نہیں دی گئی بلکہ ایک عام انسان کو بھی کامیاب ہونے کے لئے بہترین اصول اس  میں تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ ۔
اس کتاب کا انتخاب کیوں:
دور حاضر میں انٹرنیٹ کے آجانے سے علم کا حصول کافی آسان ہو گیا۔کتابیں اور لیکچرز بلا معاوضہ باآسانی مل جاتے ہیں جس سے یہ تو ہوا کہ علم بہت تیزی سے پھیلا ہر مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ  علم کے یوں تیزی سے پھیلنے سے معاشرے میں علم کے وہ ثمرات و برکات ظاہر نہیں ہوئے جو ہونے چاہیئے تھے اس کی ایک وجہ علم کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ وہی ہے جو اسلاف کا تھا کہ براہ راست استاد سے سیکھا جائے کیونکہ  تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ضروری ہے ورنہ وہی علم فتنوں کا باعث بھی بن سکتا ہے(اس نقطے کو شیخ صالح عثیمین نے بہت خوبصورتی سے واضح کیا)
اسلاف تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت حاصل کرنے اور آداب سیکھنے کا بھی بندوبست کرتے تھے جس کا اندازہ ان چند اقوال سے لگایا جا سکتا ہے۔

قال عمر رضي الله عنه : (( تعلموا العلم وتعلموا له السكينة والوقار))
حضرت عمر رضی اللہ نے فرمایا :علم حاصل کرو اور اس علم کو حاصل کرنے کے لئے سکون اور وقار بھی حٓاصل کرو(اپنے اندر یہ دو صفات پیدا کرو)


قال الإمام عبدالله بن المبارك رحمه الله : ( طلبت الأدب ثلاثين سنة , وطلبت العلم عشرين سنة , وكانوا يطلبون الأدب قبل العلم ).غاية النهاية في طبقات القراء 1/ 198.
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا ؛(میں نے تیس سال تک ادب سیکھا اور بیس سال تک علم حاصل کیا یعنی وہ لوگ علم حاصل کرنے سے پہلے ادب سیکھتے تھے۔

قال امام مالک رحمہ اللہ  لفتى من قريش : يا ابن أخي تعلم الأدب قبل أن تتعلم العلم
امام امام مالک رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ قریش کے ایک نوجوان سے کہا: اے میرے پیارے بھتیجے علم حاصل کرنے سے پہلے آداب سیکھو
 ۔
 یعنی ہمارے اسلاف علم حاصل کرنے کے آداب کو حصول علم سے زیادہ اہمیت دیتے تھے کیونکہ " باادب بانصیب بے ادب بے نصیب"۔آج علمی فتنوں کے پھیلنے میں  بڑا سبب بھی یہی ہے۔ اور شیخ صالح نے اپنی شرح میں ان سب فتنوں کی نشاندہی  کرنے کے ساتھ ساتھ  ان کے اسباب و حل کی طرف بہترین طریقے سے راہنمائی دی ہے۔
اس کتاب نے مجھے بے حد تک متاثر کیا ،بہت کچھ سیکھنے کو ملااس لئے دل میں خیال آیا کہ اس کو  عام کیا جائے اور باقیوں تک اس کی تعلیمات کو پہنچایا جائے لہذا میں مجبور ہوگئی کہ پہلے سے جن  کتابوں  پر کام کر رہی ہوں ان کو کچھ عرصہ کے لئے مؤخر کر کے پہلے اس کا ترجمہ کیا جائے


۔
یہ کتاب مجھے کیسے ملی:
 

حج کے موقع پر میں باقاعدگی سے حرم کی لائبریری جایا کرتی تھی ۔کتابوں سے علم حاصل کرنے کے علاوہ وہاں کے ماحول سے بہت کچھ سیکھنے کو ملاجب میں پہلی بار لائبریری گئی تو انٹری کرواتے ا
   کرواتے وقت لائبریرین نے میری نیشنلیٹی پوچھی

۔جب میں نے بتایا کہ میں پاکستانی ہوں تو کافی حیرت اور تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھا جس کا سبب مجھے بعد میں معلوم ہوا (اول تو وہاں لائبریری میں کوئی آتا نہیں تھا اتنے دنوں میں شاید چار یا پانچ بار کچھ خواتیں دیکھیں ۔جن میں سے دو ،چار نے وہاں پر محض لائبریری کو اندر سے دیکھنے اور سیلفیاں لینے پر ہی اکتفا کیا یعنی بغیر کوئی کتاب کھولے اور پڑھے واپس۔۔گویا بحیثیت قوم ہمیں تفریح کی اتنی عادت ہو گئی ہے کہ کسی سنجیدہ ماحول میں ہو یا کسی بھی جگہ تفریح کے مواقع تلاش کئے جاتے ہیں۔۔)
ایک اور بات جس نے مجھے بہت کچھ سکھایا کہ میں وہاں لائبریری میں کبھی کبھار میں اکیلی خاتون ہوتی تھی باقی ڈیوٹی پر موجود لڑکے ہی ہوتے تھے۔پہلی بار جب مجھے وہاں اکیلے ہونے کا احساس ہوا تو واپس جانے کا فیصلہ کیا مگر کچھ دیر بعد محسوس ہوا کہ یہاں پر وہ پاکستانی کلچر نہیں جہاں اکیلی لڑکی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے( دو چار بار نظریں اٹھا کر اردگرد کے ماحول پر نظر دوڑائی مگر الحمد للہ ایسا کچھ نہیں تھا سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے)حتیٰ کہ جتنی بار بھی کتابوں کے سلسلے میں گفتگو کی تو مکمل حیا اور جھکی نظروں کے ساتھ جوابات دیئے گئے   ۔
لائبریری میں جب اس کتاب پر میری نظر پڑی  تو عنوان بہت پسند آیا فہرست دیکھی تو لگا کہ شاید میں ایسی ہی کسی کتاب کی تلاش میں ہوں۔کتاب کو پڑھنا شروع کیا بہت اچھی لگی، خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔اگلے دن صبح ہوتے ہی اس کتاب کو خریدنے کے لئے بازار کا رخ کیا۔ حرم کے بالکل سامنے تین بڑے ہوٹل کلاک ٹاور،ہلٹن اور صفوۃ ٹاور ہیں جو ایک دوسرے سے متصل ہیں،ان تینوں عمارتوں میں سینکڑوں دوکانیں ہیں مگر افسوس کہ ان تینوں عماتوں میں کتابوں کی دکانوں کی تعداد چار یا پانچ تھی(قرآن کے مصحف اور سی ڈیز کے سٹالز تو بے شمار موجود ہیں)۔ ۔
دو دن کی تلاش کے بعد بھی کتاب نہ ملی  واپس آکر لائبریرین  سے بات کی انہوں نے مجھے وہاں کی یونیورسٹی میں جانے کا مشورہ دیا (اپنا مختصر تعارف کروایا  تو الحمدللہ مکمل راہنمائی کی کہ یونیورسٹی جانے کا کیا طریقہ کار ہے اور میں عربی میں ہی گفتگو کرتی تھی اس لئے آسانی ہو گئی)ہوٹل آکر گھر والوں سے بات کی جواب وہی ملا جس کا امکان تھا کہ ایسا ناممکن ہے اس لئے دوبارہ بات کرنے کے بجائے اللہ سے ڈھیر ساری دعا کے بعد دوبارہ تلاش شروع کردی  بالآخر ایک دوکان سے کتاب مل گئی ۔کتابوں کی خریداری میں میرا کافی وقت لگا کیونکہ فہرست پر سرسری نظر دوڑاتی۔۔۔۔اس دوران محسوس کیا کہ کوئی ایک بھی گاہک داخل نہیں ہوا  ۔یہ ہمارے شوق اور ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔کہ اول تو سینکڑوں دوکانوں میں ایک دو دوکانیں کتابوں کی اور ان میں بھی خریدار نہ ہونے کے برابر۔۔ ظاہر ہے تاجر اپنی دوکان پر وہی چیز رکھے گا جو زیادہ فروخت ہو گی۔


ہمارے شوق ہی ہماری ترجیحات کو واضح کرتے ہیں ۔ہمارے دن کا زیادہ حصہ جن چیزوں میں گزرتا ہے  وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے دل ان ہی میں اٹکے ہوئے ہیں
افسوس کے ساتھ پورے لاہور میں اردو بازار کے علاوہ دینی و علمی کتب خریدنے کے لئے دوکانوں کی تعداد انگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہے

دوسرے لفظوں میں کہہ لیں کہ ہماری زندگی میں دو ہی مقصد ہیں ۔کھانا پینا اور پہننا اوڑھنا۔بازار بھرے پڑے ہیں انہی دونوں چیزوں کی دوکانوں سے ۔ہر سڑک گلی محلہ میں کھانے پینے کی دوکانیں موجود ہیں


فوڈ سٹریٹوں اور کپڑوں کی ان دنیا نے ہمیں ایسا بنا دیا ہے کہ کھا پی رہے ہیں اور  چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔
جس کے بارے میں اللہ قرآن میں فرماتے ہیں۔
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ کھیل اور ایک دل لگی ہے اور بناؤ سنگھار ہے اور تمھارا آپس میں ایک دورے پر باہم فخر کرنا اور اموال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال بارش سے اگنے والی کھیتی کی طرح ہے جس نے کاشت کاروں کو خوش کر دیا ،پھر وہ پک جاتی ہے پھر تو اسے دیکھتا ہے کہ زرد ہے پھر وہ چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بڑی بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں(الحدید:20
۔اللہ میری اس چھوٹی سی کاوش کو قبول فرمائے اور اس کو دنیا میں میرے لئے باعث برکت اور آخرت میں باعث نجات بنا دے۔آمین
سارہ اقبال